تحریر شمس الحق قمرؔ

اپنے شکستہ اور بے جوڑ الفاظ چترال اکیڈمک سرکل کے حوالہ کرتے ہوئے جو بے انتہا خوشی مجھے ہورہی ہے وہ میرے بیان سے باہر ہے ۔ اس فورم سے ہماری ایک دیرینہ آرزو اپنی منزل سے ہمکنار ہوتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن اس پر مستزاد یہ کہ چترال اکیڈمک سے ملحق برقیاتی اخبار کے اجرا ٔ کی نوید بھی آئی ہے جس سے ایک بڑا عظیم علمی خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس کارِ ہائے نمایاں کی انجام دہی پر ہم چترال کے ہنر مند سپوت واحد خان اور اُن کے عملے کو مبارک باد دیتے ہیں اور بدست دعا ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس نیک کام میں برکت دے اور اس کام کے راہنماؤں کی علمی کاشوں کو اور بھی جلا بخشے آمین ۔ یوں تو یہ سرگرمی بہت ہی سہل معلوم ہوتی ہے لیکن یہ کام جس عرق ریزی اور سخت محنت کا متقاضی ہے یہ وہی لوگ جانتے ہوں گے جواپنی لڑی سے بکھری موتیوں کی از سر نو شرازہ بندی کا بیڑا اُٹھا رکھےہوں۔ میں یہاں پر چترال اکیڈمک سرکل کی اہمیت پر چند ایک باتیں کہنے کی جسارت کر تا ہوں ۔ ” چترال اکیڈمک سرکل ” کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی وساطت سے چترال کے اُن تمام ہم خیال افراد کو اپنے خیالات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کے علاوہ انتہائی سرعت سے بدلتی دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے زندگی گزرنے کے طور طریقوں پرسوچنے اور لائحہ عمل طے کرنے کا وہ زریں موقعہ ملا ہے جو مدتوں سے مُنتَظَرتھا ۔


میری اس محفل تک رسائی کے ضمن میں، میں آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول چترال کے اُردو ادب کے استاد محترم عطأ حیسن اطہرؔ صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے میری فیس بک پر اس فورم میں شرکت کےلئے مجھے دعوت نامہ بھیجا ۔ میری اس رطب اللسانی پر واحد خان صاحب کا مجھے متعصب سمجھنا بھی بجا ہے کیوں کہ اُنہوں نے مجھے اطہرؔ سے قبل دعوت دی تھی لیکن مجھ سے اُن کا دعوت نامہ پڑھنے سے پہلے غلطی سے ساقط ہو چکا تھا ۔ بہر حال اطہر کی مہربانی اور واحد کی جانفشانی کی بدولت مجھے چترال کی کئی ایک نابغہ روزگار شخصیات کو براہ راست سننے اور اُن سے سولات پوچھنے کا موقعہ ملا ۔ مجھے چترال کے نگینوں کو واحد خان کے چینل پر برراہ راست دیکھنے ، اُن کی گفتگو اُن کی زبانی سننے اور زیر نظر ویب سائٹ کے مطالعے سے مصلح قوم سر سید احمد خان کی علمی تحریک کے ابتدائی ایام کے قصے یاد آئے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شروع سے یونیورسٹی نہیں تھی بلکہ اس مادر علمی کی ابتدا ایک چھوٹے سے مدرسے سے ہوئی تھی اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ مدرسہ ایک ایسے مشہور اور نامور علمی درسگاہ میں بدل گیا جسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہا جانے لگا ۔ میں چترال اکیڈمک سرکل کو کچھ اس نہج پر سفر کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔ ہم یہ بھی اُمید رکھتے ہیں کہ مذکورہ چینل اور اس سے ملحق برقیاتی اخبار دن دگنی رات چگنی ترقی کرتے ہوئے پورے ملک میں علم کانور پھیلانے میں اپنا مثبت اور بہترین کردار ادا کریں گے ۔ اُمید واثق اور یقین محکم ہے کہ مستقل قریب میں چترال اکیڈمک سرکل پر ہوا کے دوسش چلنے والے تمام حرکی اور تحریری پروگرام چترال کی تاریخ میں علمی ، معاشی ، معاشرتی اور ادبی تحقیق کےلیے مستند حوالہ کے طور پر استعمال ہوں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.